MOJ E SUKHAN

جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گا

غزل

جس طرف جاؤ گے اک شور سنائی دے گا
کہیں لیکن کوئی چہرہ نہ دکھائی دے گا

جانے کیا حال نگاہوں کا وہ لمحہ کر دے
جب نہ کچھ تیرے سوا مجھ کو دکھائی دے گا

ڈوبتے وقت کی آواز ہوں کر لو محفوظ
پھر مرے بعد یہ نغمہ نہ سنائی دے گا

ہاتھ پھیلاتے ہوئے اس لیے ڈر لگتا ہے
کیا کروں گا وہ اگر مجھ کو خدائی دے گا

رات کو پیار کی سوغات ملی ہے جس سے
صبح ہوگی تو وہی زخم جدائی دے گا

اتنا چپ چپ جو پڑا ہے تو غنیمت جانو
دل کو چھیڑوگے تو سو طرح دہائی دے گا

روح کے ساتھ میں اڑ جاؤں گا جانے کس اور
جب مجھے قید بدن سے وہ رہائی دے گا

ہاتھ کھوئے ہیں تو کیوں ڈھونڈ رہے ہو خاورؔ
کیا تمہیں گھور اندھیرے میں سجھائی دے گا

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم