MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں

غزل

ہے بہت مشکل نکلنا شہر کے بازار میں
جب سے جکڑا ہوں میں کمرے کے در و دیوار میں

چھ برس کے بعد اک سونے مکاں کے بام و در
بس گئے ہیں پھر کسی کے جسم کی مہکار میں

مجھ کو اپنے جسم سے باہر نکلنا چاہئے
ورنہ میرا دم گھٹے گا اس اندھیرے غار میں

یاد اسے اک پل بھی کرنے کی مجھے فرصت نہیں
مبتلا صدیوں سے میرا دل ہے جس کے پیار میں

دیکھتے ہیں لوگ جب خاورؔ پرانی آنکھ سے
کیا نظر آئے کوئی خوبی نئے فن کار میں

بدیع الزماں خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم