MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اردو ادب میں خاکہ نگاری اور اس کے فنی لوازمات موجِ سخن تحقیقی ڈیسک

اردو ادب میں خاکہ نگاری اور اس کے فنی لوازمات موجِ سخن تحقیقی ڈیسک خاکہ غیرافسانوی نثری صنف ہے۔ اسے مرقع یا قلمی تصویر بھی کہتے ہیں۔ اس میں کسی شخصیت کے ظاہری اور باطنی اوصاف بیان کیے جاتے ہیں۔ اس میں شخصیت کی خوبیوں یا خامیوں کا بیان اس طرح کیا جاتا ہے کہ […]

اردو ادب میں خاکہ نگاری اور اس کے فنی لوازمات موجِ سخن تحقیقی ڈیسک Read More »

اردو ادب کی دو عظیم ترین خواتین قرۃ العین حیدر اور پروین شاکر کا جھگڑا

اردو ادب کی دو عظیم ترین خواتین قرۃ العین حیدر اور پروین شاکر کا جھگڑا۔ اس جھگڑے میں بھی ادب عروج پر نظر آتا ہے۔   فکشن میں قرۃ العین حیدر جتنی مقبول و ممتاز ہیں شعر و ادب میں پروین شاکر بھی اتنی ہی مقبول ہیں۔ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ بہت ممکن

اردو ادب کی دو عظیم ترین خواتین قرۃ العین حیدر اور پروین شاکر کا جھگڑا Read More »

اردو رسم الخط چار پانچ برس میں ختم ہوجائے گا نسیم درانی

اردو رسم الخط چار پانچ برس میں ختم ہوجائے گا نسیم درانی ادبی جریدہ نکالنا ’’گھر پھونک تماشا دیکھ‘‘ والا معاملہ ہے، نسیم درانی   پاک و ہند کے ممتاز ادبی جریدے ’’سیپ‘‘ کے مدیر، نسیم درانی کے حالات و خیالات  فوٹو ایکپریس نیوز پانچ عشروں قبل روشنیوں کے شہر پر ایک حسین شام اتری۔

اردو رسم الخط چار پانچ برس میں ختم ہوجائے گا نسیم درانی Read More »

دل و نگاہ کو کب ان کا مستقر جانا

غزل دل و نگاہ کو کب ان کا مستقر جانا خیال و خواب کو اک عرصۂ سفر جانا تمہارے خواب پس انداز کر لیے ہم نے اور اپنے آپ کو پھر کتنا معتبر جانا یہ کارواں تو نہ جانے کہاں تلک جائے تمہیں جہاں کہیں منزل ملے ٹھہر جانا گہر صدف میں نہ رہتا تو

دل و نگاہ کو کب ان کا مستقر جانا Read More »

بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہو

غزل بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہو کیا جانئے اس شخص کا کیا حال ہوا ہو ٹوٹے ہوئے کچھ خواب تھے پیوستۂ تقدیر کردار میں ان کا کوئی ریزہ نہ چبھا ہو ایسا بھی ہوا ہے کبھی اس دہر میں لا کر انسان کی قسمت کو خدا بھول گیا ہو جس آنکھ

بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہو Read More »

نظر کے سامنے حسن بہار رہنے دے

غزل نظر کے سامنے حسن بہار رہنے دے جمال دید کو پرور دگار رہنے دے سوال شوق کا کوئی جواب ہو کہ نہ ہو ہمارے دل میں امیدیں ہزار رہنے دے نہ دیکھ حد نظر دور تک سمندر ہے رفاقتیں ابھی ساحل کے پار رہنے دے کرم شعار نہ تھے معتبر نہیں ٹھہرے سو آج

نظر کے سامنے حسن بہار رہنے دے Read More »

دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھا

غزل دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھا یہ پھول کسی آگ میں جل جائے تو اچھا معیوب جو لہجے ہیں وہ معتوب نہ ہوں گے اپنا ہی یہ انداز بدل جائے تو اچھا انسان کو انساں ہی کہا جائے تو بہتر تشبیہ مہ و مہر بدل جائے تو اچھا بے نور ستاروں کی

دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھا Read More »

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

غزل ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے میری سوچیں مرا احساس مری ہی آواز میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے ایسی دنیا

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے Read More »

کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہو

غزل کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہو کہیں ملے ہیں محبت کو سائبان کہو نہ گل کہو نہ ستارہ کہو نہ جان کہو میں ایک لمحہ ہوں مجھ کو فقط گمان کہو جو صورتیں نظر آتی ہیں خواب ہستی میں وہ اصل میں کبھی ہوتی ہیں مہربان کہو میں منفرد تو نہیں ہوں مگر

کہاں ہوا کے مخالف ہیں بادبان کہو Read More »

گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئی

غزل گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئی یہ بات اگلے سفر کی نئی نشانی ہوئی لگا کے بیٹھ گئے شرط دست و بازو کی اگرچہ دل میں ہے پہلے سے ہار مانی ہوئی جدا کیا ہے اسے آپ ہی تو چپ کیوں ہو بھلا یہ کون سے جذبے کی ترجمانی ہوئی اسے پھر

گزشتہ وقت کی ہر بات آنی جانی ہوئی Read More »