MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے

غزل

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے
یہ کہانی مگر ادھوری ہے

ہجر تو خیر اس کا لازم تھا
وصل بھی اب بہت ضروری ہے

میری آنکھوں کے جرم میں شامل
ان نگاہوں کی بے قصوری ہے

میرے الفاظ ہو رہے ہیں خرچ
قوم کی مفت میں مشہوری ہے

یوں مرا تاج و تخت چھین لیا
جیسے وہ شیر شاہ سوری ہے

ان دنوں اس کے سامنے دل کی
جی حضوری ہی جی حضوری ہے

کس قدر شوخ کر دیا مجھ کو
عشق مٹھو میاں کی چوری ہے

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم