MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے

غزل

گرد سفر میں راہ نے دیکھا نہیں مجھے
اک عمر مہر و ماہ نے دیکھا نہیں مجھے

اچھا ہوا کہ خاک نشینوں کے رو بہ رو
اس شہر کج کلاہ نے دیکھا نہیں مجھے

میں دیکھتا تھا رنگ بدلتی ہوئی نگاہ
بدلی ہوئی نگاہ نے دیکھا نہیں مجھے

میری صدا وہاں پہ تجھے کیسے ڈھونڈتی
تیری جہاں پناہ نے دیکھا نہیں مجھے

ہر موج درد خود میں اتارے چلا گیا
ساحلؔ دل تباہ نے دیکھا نہیں مجھے

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم