MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی

غزل عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی آپ بھی روئیں گے شاید زارزار پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ یا نظر کی روشنی مٹ جائے […]

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی Read More »

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا

غزل جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو تو مہر و ماہ سے بھی

جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا Read More »

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں

غزل یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں آج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گا ہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں جسم باقی ہے مگر جاں کو مٹانے والے روح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں اس قدر خوش

یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں Read More »

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے

غزل کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے جنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابل جو

کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے Read More »

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

غزل کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو Read More »

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے

غزل جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے اپنا یہی مذہب ہے اپنی یہی ملت ہے اللہ میں بندے میں تمیز ہی نسبت ہے سمجھو تو یہی دوری دوری نہیں قربت ہے مطلوب ہو یا طالب تفریق کی صورت ہے اس فرق کا اٹھنا ہی تکمیل محبت ہے دونوں میں برابر کا احساس محبت

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے Read More »

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے

غزل تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے دیکھو نہ تماشہ مجھے دیوانہ بنا کے محروم کرم ہو گئے کیوں ہوش میں آکے بھوکے تھے ابھی ہم ترے دامن کی ہوا کے تا نگۂ شوق کی خاطر ہو جو پردہ فرمائے دیکھوں کسے پھر اس کو ہٹا کے نا قابل ترمیم ہے

تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے Read More »

ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے

غزل ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے اپنی تمام عمر میں کام یہی تو کر گئے دل کے نصیب جاگ اٹھے تار نظر سنور گئے آپ جہاں جہاں رہے آپ جدھر جدھر گئے حسن کو جن پہ ناز تھا جب سے وہ دیدہ ور گئے کتنے ہی چہرے پھول

ہم جو کسی کے ہو گئے ہم جو کسی پر مر گئے Read More »

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے

غزل دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے پھر بھی سب کچھ ہے غم یار اگر باقی ہے اور کچھ لوٹ لے افتاد محبت کے مزے کچھ تماشا جو ابھی شعبدہ گر باقی ہے ہم کسی اور کی دہلیز پہ سر کیوں پھوڑیں سر سودا زدہ باقی ترا در باقی ہے قوت

دل میں دھڑکن ہے نہ آنکھوں میں نظر باقی ہے Read More »

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا

غزل جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا جہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں ماتم نہیں ہوتا ہوس آخر ہوس ٹھہری ہوس کا ذکر ہی کیا ہے مگر جب عشق ہو جاتا ہے پھر وہ کم نہیں ہوتا جگر کے زخم بھرتے ہیں نہ دل کے داغ مٹتے ہیں محبت کی جراحت

جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا Read More »