MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا

غزل

میں اس کی انجمن میں اکیلا نہیں گیا
جو میں گیا تو پھر کوئی تنہا نہیں گیا

میں چاہتا تھا اس کی نگاہوں سے کھیلنا
لیکن ذرا سی دیر بھی کھیلا نہیں گیا

ممکن نہیں تھا حسن و نظر کا موازنہ
مجھ سے تو اس کو ٹھیک سے دیکھا نہیں گیا

تحویل میں کسی کی پہنچ کے ہے خوش وہ دل
جس کو کسی مقام پہ رکھا نہیں گیا

دونوں طرف تھی ایک شکایت لکھی ہوئی
چاہا کبھی گیا کبھی چاہا نہیں گیا

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم