MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے

غزل

مارنے والی امنگوں کی طرح ہوتا ہے
عشق بارودی سرنگوں کی طرح ہوتا ہے

روشنی مجھ پہ بھی اتنا ہی اثر کرتی ہے
میرا جلنا بھی پتنگوں کی طرح ہوتا ہے

بعد میں آتی ہے تہذیب محبت صاحب
ہر کوئی پہلے لفنگوں کی طرح ہوتا ہے

اس سے بچنا ہی مناسب ہے ذرا دھیان رہے
ہجر سفاک نہنگوں کی طرح ہوتا ہے

ہے مری عشق کی درگاہ سے نسبت سو مرا
بیٹھنا اٹھنا ملنگوں کی طرح ہوتا ہے

یہ ہے جذباتی مکینوں کا علاقہ اعجازؔ
سو یہاں امن بھی جنگوں کی طرح ہوتا ہے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم