MOJ E SUKHAN

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں

غزل

یہ ان سے ملتی ہے مبتلا نئیں
ہوا درختوں کی داشتہ نئیں

وفا کا سن کر ملال مت کر
یہ پیشکش ہے مطالبہ نئیں

یقین سے عشق ہو رہا ہے
کسی کو فکری مغالطہ نئیں

فسردہ لوگوں پہ ہنسنے والو
یہ بد تمیزی کی انتہا نئیں

نظر نظر سے سخن کرے گی
یہ لب کشائی کا مرحلہ نئیں

میں چل پڑوں گا کسی بھی لمحے
تھکا ہوا ہوں شکستہ پا نئیں

یہ ہجر ہے اپنے ساتھ رہنا
یہ وقت خود سے گریز کا نئیں

مجھے بہت دیکھتی ہے دنیا
مگر میں دنیا کو دیکھتا نئیں

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم