MOJ E SUKHAN

درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے

غزل

درون عشق عجب تانا بانا بنتا ہے
ذرا سی بات کا کتنا فسانہ بنتا ہے

میاں یہ شاخ محبت تمہارے سامنے ہے
بناؤ اس پہ اگر آشیانہ بنتا ہے

ہمارے درد پڑے ہیں چہار سمت یہاں
سو مسکراؤ یہاں مسکرانا بنتا ہے

چھپائے پھرتا ہوں آنکھوں میں اشک کے موتی
کہ جمع کرنے سے دولت خزانہ بنتا ہے

یہ دشت ہے یہاں دیوانگی ضروری ہے
ہر ایک شخص جنوں کا نشانہ بنتا ہے

مری وفاؤں کو اب اعتبار حاصل ہے
سو اس کے گھر میں مرا آنا جانا بنتا ہے

تمہارے جیسی ہے اس کے مزاج میں شوخی
یہ رنگ میری نظر میں اڑانا بنتا ہے

اسے بتاتے ہیں غالبؔ کے رشتہ دار ہیں ہم
ہمارے سامنے جو بھی یگانہؔ بنتا ہے

رہی ہوں پانچ چھ پشتیں درون دشت تبھی
مرے عزیز جنوں کا گھرانا بنتا ہے

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم