MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے

غزل یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے اس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہے اب سامنے بنتا ہے مرا عکس تماشا یہ ہرزہ سرائی پس آئینہ نہیں ہے کچھ دن کی شناسائی شناسائی نہ سمجھو یہ خود سے تعلق مرا دیرینہ نہیں ہے احکام یہاں دل کے ہی چلتے ہیں کم […]

یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے Read More »

ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے

غزل ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے نئے کے بعد ہی کوئی پرانا ہوتا ہے بلا جواز نہیں بولتا ہوں دیر تلک کہ میں نے بات کو آگے بڑھانا ہوتا ہے یوں ہی نہیں مری آنکھوں میں اشک لہراتے کہ ہر کسی نے مرا دل دکھانا ہوتا ہے یہ منصفین کسی کو بھی

ہمیں یہ راز سبھی کو بتانا ہوتا ہے Read More »

زمانے کی ستائی خودکشی ہے

غزل زمانے کی ستائی خودکشی ہے محبت ابتدائی خودکشی ہے جہاں سفاک آنکھیں گھات میں ہوں وہاں چہرہ نمائی خودکشی ہے میں رائے عشق پر اب اور کیا دوں کہا تو ہے کہ بھائی خودکشی ہے میں اس کو پھول دے کر خوش نہیں ہوں کہ یہ بھی دلربائی خودکشی ہے یہ استعمال کرنے پر

زمانے کی ستائی خودکشی ہے Read More »

کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہے

غزل کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہے یہ دو دلوں کے بیچ علاقائی جنگ ہے تنہائی سے علاقہ ہے مجھ کو مرے عزیز میرے لئے یہ انجمن آرائی جنگ ہے جو لڑ رہا ہوں مل کے محبت کے ساتھ میں یہ جنگ بھی میاں مری آبائی جنگ ہے سوچوں کا اختلاف ہے

کہتے ہیں جس کو عشق مرے بھائی جنگ ہے Read More »

نیند کے دائرے میں حاضر ہوں

غزل نیند کے دائرے میں حاضر ہوں خواب کے راستے میں حاضر ہوں یاد ہے عشق تھا کبھی مجھ سے میں اسی سلسلے میں حاضر ہوں آپ مجھ میں سنورنا چاہتے ہیں لیجیے آئنے میں حاضر ہوں تم خسارہ سمجھ رہے ہو جسے میں اسی فائدے میں حاضر ہوں میرا ہونا نہیں مرا ہونا میں

نیند کے دائرے میں حاضر ہوں Read More »

کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہ

غزل کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہ لفظ کو تم نے تراشا شکریہ آپ کی خواہش تو پوری ہو گئی بن گیا ہوں میں تماشا شکریہ مہربانی مجھ پہ تم دونوں کی تھی اس لیے آشا نراشا شکریہ ہے غرض مجھ کو فقط آواز سے آپ بولیں جو بھی بھاشا شکریہ تم نے رکھا ہے

کاش کو لکھا ہے کاشا شکریہ Read More »

اس قدر غور سے نہ سن فعلن

غزل اس قدر غور سے نہ سن فعلن بحر ٹوٹی ہوئی ہے چن فعلن گر عروضی زبان سیکھنی ہے پھر تو کہنا پڑے گا کن فعلن ہم نے اس کو کیا ہے استعمال کیوں نہ گائے ہمارے گن فعلن لفظ ہوتا ہے ہر غزل کی آنکھ خواب کے ساتھ اس میں بن فعلن زندگی ایسی

اس قدر غور سے نہ سن فعلن Read More »

ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میں

غزل ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میں میں بیٹھتا ہی نہیں واہیات لوگوں میں نہیں طویل مرے آشناؤں کی فہرست میں جانا جاتا ہوں بس پانچ سات لوگوں میں خدا کا شکر سخن رائیگاں نہیں میرا سنی گئی ہے مری بات بات لوگوں میں مجھے بھی چھوڑ کے جانا ہے ایک روز جہاں مرا

ادب سے عاری درندہ صفات لوگوں میں Read More »

یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں

غزل یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں وہ کہے کیسے ہو تم اور میں رونے لگ جاؤں اے مری آنکھ میں ٹھہرائے ہوئے وصل کے خواب میں تواتر سے ترے ساتھ نہ سونے لگ جاؤں مجھ کو ہر چیز میسر ہے محبت میں سو اب رائیگانی میں ترے داغ نہ دھونے لگ

یہ بھی ممکن ہے میاں آنکھ بھگونے لگ جاؤں Read More »

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں

غزل بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں کچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیں روتا ہوں میں ان لفظوں کی قبروں پے کئی بار جو لفظ مری شعلہ بیانی میں مرے ہیں کچھ تجھ سے یہ دوری بھی مجھے مار گئی ہے کچھ جذبے مرے نقل مکانی میں مرے ہیں قبروں میں

بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیں Read More »