یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے
غزل یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے اس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہے اب سامنے بنتا ہے مرا عکس تماشا یہ ہرزہ سرائی پس آئینہ نہیں ہے کچھ دن کی شناسائی شناسائی نہ سمجھو یہ خود سے تعلق مرا دیرینہ نہیں ہے احکام یہاں دل کے ہی چلتے ہیں کم […]
یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہے Read More »