MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا

غزل

تیرے وعدے کو کبھی جھوٹ نہیں سمجھوں گا
آج کی رات بھی دروازہ کھلا رکھوں گا

دیکھنے کے لیے اک چہرہ بہت ہوتا ہے
آنکھ جب تک ہے تجھے صرف تجھے دیکھوں گا

میری تنہائی کی رسوائی کی منزل آئی
وصل کے لمحے سے میں ہجر کی شب بدلوں گا

شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے
سوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا

تاکہ محفوظ رہے میرے قلم کی حرمت
سچ مجھے لکھنا ہے میں حسن کو سچ لکھوں گا

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم