MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

غزل

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات
یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

کچھ بھی دکھائی دیتا نہیں دور دور تک
چبھتی ہے سوئیوں کی طرح جب رگوں میں رات

وہ کھردری چٹانیں وہ دریا وہ آبشار
سب کچھ سمیٹ لے گئی اپنے پروں میں رات

آنکھوں کو سب کی نیند بھی دی خواب بھی دیے
ہم کو شمار کرتی رہی دشمنوں میں رات

بے سمت منزلوں نے بلایا ہے پھر ہمیں
سناٹے پھر بچھانے لگی راستوں میں رات

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم