MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود

غزل

ان کی گلی میں برسوں رہائش کے باوجود
حاصل نہ کر سکا انہیں کوشش کے باوجود

آنکھوں سے آشکارہ نہیں ہونے دی تپش
دل میں دہکتی ہجر کی آتش کے باوجود

تیرا ہوں میں تو تیرے کرم سے ترا ہوں میں
شیطان اور نفس کی سازش کے باوجود

شاید اٹھیں وہ سن کے سرافیل کی صدا
جو نیند میں ہیں چار سو شورش کے باوجود

وہ زہر دے رہا تھا میں سمجھا شراب ہے
اک مغبچے کے ہاتھ کی لرزش کے باوجود

حیرت ہے ان پہ تجھ کو نہیں مانتے جو لوگ
شمس و قمر میں تیری نمائش کے باوجود

خواہش کے وہ بغیر ملے گا بروز حشر
دنیا میں جو نہ مل سکا خواہش کے باوجود

گیلانیؔ کوئی ایسا نہ ہوگا جو حشر میں
بخشا نہ جائے ان کی سفارش کے باوجود

سلمان گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم