MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سفینہ زیست کا طوفان سے نکل آیا

غزل

سفینہ زیست کا طوفان سے نکل آیا
کہ دل ہے عشق کے ہیجان سے نکل آیا

جب ان کی زلفوں کو سونگھا تو عندلیب خیال
گلاب و نرگس و ریحان سے نکل آیا

کوئی جو پیارا لگے روکتا ہوں حیلے سے
حوالہ دیکھیے قرآن سے نکل آیا

سنا تو ہوگا یہ قصہ جناب یوسف کا
پیالہ بھائی کے سامان سے نکل آیا

ہر آنے والا یہ کہتا ہے میرے آنے سے
ہمارا دیس ہے بحران سے نکل آیا

میں جس کا پوچھتا پھرتا تھا گل فروشوں سے
وہ پھول گھر کے ہی دالان سے نکل آیا

تمہارے غم کی کہانی سنی تو گیلانیؔ
میں اپنے حال پریشان سے نکل آیا

سلمان گیلانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم