MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے

غزل خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے چترکارا سن یہاں تازہ کشی ممنوع ہے پھول نظارے سے آگے روشنی کرنے کی شے رنگ کی کاری گری میں آگ بھی مجموع ہے دشت میں اے شہہ تری ہرگز عمل داری نہیں یہ عزا خانہ دیار حکم سے مرفوع ہے زائچہ سازا ہمارے خواب […]

خلق سے پہلے بتا دے کیا ترا موضوع ہے Read More »

سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی

غزل سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی شجر سے نیچے اتر کے خلقت نحیف قدموں پہ چل رہی تھی وسیع رقبے کا بے نہایت خطیر ملبہ سمٹ رہا تھا ضعیف تارے کی دھونکنی سے مہیب ظلمت ابل رہی تھی طواف کرتی ہوا کا رونا مطاف میں غل مچا رہا تھا

سنا ہے کیچڑ کے سوکھنے پر حیات چولا بدل رہی تھی Read More »

بد نصیبی کی سولی پہ نیند آ گئی خواب دیکھا مگر خواب نے کیا دیا

غزل بد نصیبی کی سولی پہ نیند آ گئی خواب دیکھا مگر خواب نے کیا دیا خوش گمانی کی خوش رنگ قندیل نے نا مرادوں کو صحرا میں بھٹکا دیا شامیانے میں دریاں لپیٹی گئیں دوست اٹھنے لگے کچھ نے کندھا دیا بین کرتے ہوئی عورتیں ہٹ گئیں اور میرے جنازے کو رستہ دیا دو

بد نصیبی کی سولی پہ نیند آ گئی خواب دیکھا مگر خواب نے کیا دیا Read More »

وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی

غزل وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی روشنی تسبیح کے رنگین دانوں سے اٹھی سرخ آفت سے مزین تختۂ گل کی سحر شب کو نارنجی قیامت شمع دانوں سے اٹھی سبزہ و گل سب اچانک نیلگوں ہونے لگے یک بہ یک جب زرد ماٹی آسمانوں سے اٹھی لاد لانے کے لئے سرسبز انگوروں

وجد کرتی اک دعا کچے مکانوں سے اٹھی Read More »

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا

غزل فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا نارنجی شمعوں سے حجرہ خیر کی شب میں روشن تھا راہ رووں نے دشت سفر میں ہر امید سنواری تھی رنج کی راہ پہ چلنے والوں کا ہر خواب مزین تھا رات ہوئی ہے خیمہ تو ناقہ سے اتارا جائے گا دیپ کہاں رکھا ہے

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا Read More »

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں

غزل جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں سارنگی کے تیر سماعت میں امشب پیوست رہیں ایرانی غالیچے کے چو گرد نشستیں قائم ہوں کافوری شمعوں سے روشن پیہم اہل ہست رہیں کسوایا جائے گھوڑوں سے لکڑی کے پہیوں کا رتھ طبل علم اسوار پیادے سارے بندوبست رہیں رنگ سپید و سیاہ سنہری

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں Read More »

رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر

غزل رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر اخروٹ توڑتی ہے گلہری درخت پر شاید کہیں سے ابر کرم کا ظہور ہو دریا پہ ایک آنکھ لگا ایک دشت پر کھڑکی میں صبح وادیٔ کیلاش کا ظہور اترے اودھ کی شام کسی روز تخت پر رتھ سے ہتھیلیوں پہ اترتی ارے غضب مخمل گھسیٹتی

رک دیکھ یار کھینچ لے تصویر وقت پر Read More »

تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار

غزل تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار میں سکوت گلگت و اسکر دو پارہ چنار بکریاں روز ازل سے کوہ کی رستہ شناس اے سنہری زین والے نقرئی رتھ کے سوار گلشن اظہار کے دو خسرو و سرمست پھول رنگ سے روشن زمین ہند از تا کوہسار یار ہم دو مختلف دنیاؤں کے تشریح

تو زبان دہلی و لاہور کا پروردگار Read More »

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر

غزل اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر ہم ملے ہوں گے کسی دوسرے سیارے پر یار لبریز نگاہوں سے زیارت تیری روشنی آئے گرے چشم کے اندھیارے پر آ تحیر کے کسی باغ اتر جاتے ہیں اور ملتے ہیں کمالات کے فوارے پر منظر مصر میں یعقوب کو یوسف دیکھے یوں رہے آنکھ

اس سے پہلے کہیں امکان کے مینارے پر Read More »

کام آئیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے

غزل کام آئیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے آخری صف میں بیٹھے ہوؤں کی کہو کب اٹھایا گیا اور ہانکے گئے شمع دان غزل سے بھڑکتی ہوئی بلی ماراں میں کوئی حویلی نہیں گومتی کے کنارے اندھیرا ہوا مرثیہ سن کے مجلس سے بانکے گئے چق اٹھائی تو دنیا کے بازار

کام آئیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے Read More »