MOJ E SUKHAN

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

غزل

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا
نہ سنا تم نے ماجرا دل کا

اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں
ہے نہیں کوئی آشنا دل کا

عشق میں ایسی کھینچی رسوائی
ہو گیا شور جا بجا دل کا

اس قدر بے حواس رہتا ہے
جیسے کچھ کوئی لے گیا دل کا

ایک بوسے پہ بیچتے تھے ہم
تو نے سودا نہ کچھ کیا دل کا

تیرے ملنے سے فائدہ کیا ہے
نہ ہو حاصل جو مدعا دل کا

کیوں دیا آصفؔ اس ستم گر کو
آپ تو مدعی ہوا دل کا

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم