MOJ E SUKHAN

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

غزل

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے

تیرے کوچے میں نقش پا کی طرح
ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے

شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم
ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے

ایک دن میں نے یار سے یہ کہا
اب تو ہم طاقت و تواں سے گئے

ہنس کے بولا کہ سن لے اے آصفؔ
یہی کہہ کہہ کے لاکھوں جاں سے گئے

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم