MOJ E SUKHAN

میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے

غزل

میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے
جو دل لیا ہے تو قیمت دلائیے نہ مجھے

دلوں میں ٹالتے ہو دم نکل ہی جاوے گا
میں ناتواں ہوں بہت آزمائیے نہ مجھے

بہت دنوں سے مسیحائی کا ہو دم بھرتے
مرا ہوا ہوں تمہیں پر جلائیے نہ مجھے

خط آپ بھیجیں گے مجھ کو پتنگ پر لکھ کر
یہ ڈورے جاتے ہوئے ہیں اڑائیے نہ مجھے

کھلایا چاہیے ہو گل رقیب کے آگے
یہ گرمی اور سے کیجے جلائیے نہ مجھے

تمہیں رقیب کی خاطر ہے لو میں جاتا ہوں
اٹھائیے نہ حیا کو بٹھائیے نہ مجھے

پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم