MOJ E SUKHAN

یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

غزل

یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کر
دل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کہتا ہے بہت کچھ وہ مجھے چپکے ہی چپکے
ظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کہتا ہے تو کچھ یا نہیں آصفؔ سے یہ تو جان
یاں کس کو سناتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

آصف الدولہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم