MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سر بسر شاخ دل ہری رہے گی

غزل

سر بسر شاخ دل ہری رہے گی
تا ابد آنکھ میں تری رہے گی

میں نے قصہ ہی پاک کر ڈالا
عشق ہوگا نہ خود سری رہے گی

عکس بنتے رہیں گے پیش نظر
صورت آئینہ گری رہے گی

سطر در سطر خوں جلایا ہے
لفظ میں روشنی بھری رہے گی

خامشی اوڑھ لی درختوں نے
آرزوئے سخن وری رہے گی

کوئی منزل تلاش لی جائے
اب کہاں تک یہ بے گھری رہے گی

باغ میں ہے قیام کا موقع
سب پرندوں سے دلبری رہے گی

کیا ہمیشہ بھٹکنا ہے مجھ کو
کیا ہمیشہ سبک سری رہے گی

زندگی سے ڈری رہوں گی میں
زندگی سائے سے ڈری رہے گی

چاند اگر ڈوب بھی گیا ماہینؔ
طاق پر چاندنی دھری رہے گی

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم