MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا

غزل

ہوائے مست نے کانوں میں کچھ کہا ہے کیا
ترے خیال نے دل کو میرے چھوا ہے کیا

یہ کیسی روشنی دہلیز تک چلی آئی
نیا چراغ کوئی راہ میں جلا ہے کیا

یہ کیا ہوا ہے مجھے چین کیوں نہیں آتا
کسی کی آنکھ سے آنسو کہیں گرا ہے کیا

طلب ہو سچ تو نہیں دور منزل جاناں
بغیر عشق کوئی معجزہ ہوا ہے کیا

اکیلا پن ہے کھٹکتا ہے شور یادوں کا
کبھی کبھی تو لگے یاد بھی سزا ہے کیا

وفا کے باب میں ترمیم ہو رہی ہے غزلؔ
ہمارے بعد کوئی فیصلہ ہوا ہے کیا

ذکیہ غزل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم