غزل
نظر جھکا کے کنویں میں وہ جھانک لے نہ کہیں
خود اپنے عکس پہ پاگل ہے مر مٹے نہ کہیں
جسے سہارا دئے تم کھڑے ہو آندھی میں
تمہارے سر پہ ہی دیوار وہ گرے نہ کہیں
ہر ایک لمحہ تھا ڈر پیچھے چھوٹ جانے کا
جو نکلے وقت کے ہم راہ تو رکے نہ کہیں
جو شب کے سائے میں محفل جمائے بیٹھے تھے
جب آئی شب تو وہی شہر میں ملے نہ کہیں
خلوص و مہر و وفا کا نگر میں دیکھ آیا
صباؔ وہ دوست پرانے مجھے ملے نہ کہیں
صبا اکرام