MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نظر جھکا کے کنویں میں وہ جھانک لے نہ کہیں

غزل

نظر جھکا کے کنویں میں وہ جھانک لے نہ کہیں
خود اپنے عکس پہ پاگل ہے مر مٹے نہ کہیں

جسے سہارا دئے تم کھڑے ہو آندھی میں
تمہارے سر پہ ہی دیوار وہ گرے نہ کہیں

ہر ایک لمحہ تھا ڈر پیچھے چھوٹ جانے کا
جو نکلے وقت کے ہم راہ تو رکے نہ کہیں

جو شب کے سائے میں محفل جمائے بیٹھے تھے
جب آئی شب تو وہی شہر میں ملے نہ کہیں

خلوص و مہر و وفا کا نگر میں دیکھ آیا
صباؔ وہ دوست پرانے مجھے ملے نہ کہیں

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم