غزل
اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہے
میرے پیچھے جو صباؔ گھر میں مرے رہتی ہے
جلتے سانسوں کے گھنے دشت میں جاری ہے سفر
جاں ابھی قہر کے خطروں سے کہاں چھوٹی ہے
اب کوئی خوابوں کا جھولا بھی لگائے تو کہاں
شب کے پیڑوں کی ہر اک شاخ حسیں ٹوٹی ہے
اس کے آنگن میں کھرے نیم کی چنچل چھایا
شام سے ہی مری دہلیز پہ آ بیٹھی ہے
گم ہوئی ہے صباؔ لوہے کے پلوں کے نیچے
گاؤں کی شوخ ندی شہر میں جب پہنچی ہے
صبا اکرام