MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہے

غزل

اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہے
میرے پیچھے جو صباؔ گھر میں مرے رہتی ہے

جلتے سانسوں کے گھنے دشت میں جاری ہے سفر
جاں ابھی قہر کے خطروں سے کہاں چھوٹی ہے

اب کوئی خوابوں کا جھولا بھی لگائے تو کہاں
شب کے پیڑوں کی ہر اک شاخ حسیں ٹوٹی ہے

اس کے آنگن میں کھرے نیم کی چنچل چھایا
شام سے ہی مری دہلیز پہ آ بیٹھی ہے

گم ہوئی ہے صباؔ لوہے کے پلوں کے نیچے
گاؤں کی شوخ ندی شہر میں جب پہنچی ہے

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم