MOJ E SUKHAN

دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھے

غزل

دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھے
دکھ تو پہلے بھی تھے پر اتنے گھنیرے کب تھے

ہم تو نکلے تھے ہواؤں کا مقدر لے کر
ہم کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرے کب تھے

جیسے انجان کوئی جیسے کوئی بیگانہ
خود سے کترا کے ہم ایسے بھی نکلتے کب تھے

بغض کی دھوپ سے ہم بھاگ کے جاتے تو کہاں
شہر احباب میں وا دل کے دریچے کب تھے

ہر طرف شاخوں پہ لٹکی تھی صباؔ خاموشی
رات کے پیڑ میں آواز کے جھولے کب تھے

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم