MOJ E SUKHAN

چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانی

غزل

چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانی
پانی تمہیں ہرگز نہ صباؔ دے گا یہ پانی

اک روز ڈبو دے گا مرے جسم کی کشتی
مجھ سے مجھے آزاد کرا دے گا یہ پانی

پہنچے گا سرابوں کا وہاں بھیس بدل کر
صحرا میں بھی ہر لمحہ صدا دے گا یہ پانی

برسے گا تو خوشبو یہاں مٹی سے اڑے گی
سینے میں مرے آگ لگا دے گا یہ پانی

پتھر سے کسی روز مٹا کر صباؔ تم کو
پانی پہ ہی اک نقش بنا دے گا یہ پانی

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم