MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میں

غزل

تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میں
گوتم آیا گوتم آیا شور مچا ہے گاؤں میں

کھوج میں اس کی شہروں شہروں گھوم رہا ہوں صدیوں سے
جس کا نام لکھا ہے میرے ہاتھوں کی ریکھاؤں میں

مت لے جاؤ دھوپ کے اس جنگل میں بوجھل آنکھوں کو
چبھ جائیں گے خار حقیقت خواب کے کومل پاؤں میں

اپنے من کی آشاؤں کے پھول پرونا کام مرا
معنی کی خوشبو تم سونگھو شبدوں کی مالاؤں میں

سورج کی کرنوں کی برچھی روح کو زخمی کرتی ہے
آؤ یارو لوٹ چلیں ہم تنگ و تار گپھاؤں میں

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم