MOJ E SUKHAN

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

غزل

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا
پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا

کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے
وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا

ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی
ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

مرے خلوص کی صیقل گری بھی ہار گئی
وہ جانے کون سا پتھر تھا آئینہ نہ ہوا

میں زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے
یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا نہ ہوا

شعور چاہئے ترتیب خار و خس کے لیے
قفس کو توڑ کے رکھا تو آشیانہ ہوا

ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی
یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانہ ہوا

کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصرؔ
پھر اس کے بعد محبت کا حادثہ نہ ہوا

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم