MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی

غزل

ٹوٹے ہوئے خوابوں کی چبھن کم نہیں ہوتی
اب رو کے بھی آنکھوں کی جلن کم نہیں ہوتی

کتنے بھی گھنیرے ہوں تری زلف کے سائے
اک رات میں صدیوں کی تھکن کم نہیں ہوتی

ہونٹوں سے پئیں چاہے نگاہوں سے چرائیں
ظالم تری خوشبوئے بدن کم نہیں ہوتی

ملنا ہے تو مل جاؤ یہیں حشر میں کیا ہے
اک عمر مرے وعدہ شکن کم نہیں ہوتی

قیصرؔ کی غزل سے بھی نہ ٹوٹی یہ روایت
اس شہر میں نا قدرئ فن کم نہیں ہوتی

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم