MOJ E SUKHAN

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے

غزل

اپنی تنہائی کی پلکوں کو بھگو لوں پہلے
پھر غزل تجھ پہ لکھوں بیٹھ کے رو لوں پہلے

خواب کے ساتھ کہیں کھو نہ گئی ہو آنکھیں
جب اٹھوں سو کے تو چہرے کو ٹٹولوں پہلے

میرے خوابوں کو ہے موسم پہ بھروسہ کتنا
بعد میں پھول کھلیں ہار پرو لوں پہلے

دیکھنا ہے وہ خفا رہتا ہے مجھ سے کب تک
میں نے سوچا ہے کہ اس بار نہ بولوں پہلے

دوستوں نے مجھے وہ داغ دیئے ہیں قیصرؔ
وہ بھی آ جائیں تو دروازہ نہ کھولوں پہلے

قیصر الجعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم