MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا

غزل

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا
مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حال دل تو کیا ہوگا

ہمارا کیا ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے
مگر طوفان جا پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا

شراب ناب ہی سے ہوش اڑ جاتے ہیں انساں کے
ترا کیف نظر بھی ہو گیا شامل تو کیا ہوگا

خرد کی رہبری نے تو ہمیں یہ دن دکھائے ہیں
جنوں ہو جائے گا جب رہبر منزل تو کیا ہوگا

کوئی پوچھے تو ساحل پر بھروسہ کرنے والوں سے
اگر طوفاں کی زد میں آ گیا ساحل تو کیا ہوگا

خود اس کی زندگی اب اس سے برہم ہوتی جاتی ہے
انہیں ہوگا بھی پاس خاطر قابلؔ تو کیا ہوگا

قابل اجمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم