غزل
ہر طرف جلوۂ فروزاں ہے
صحن ہستی میں اک چراغاں ہے
حسن ہی حسن ہے نگاہوں میں
ذرہ ذرہ گہر بداماں ہے
پھول تو کھل رہے ہیں گلشن میں
اپنی قسمت ہے اپنا داماں ہے
اے وفا نا شناس وقت بتا
آج پھر کس سے عہد و پیماں ہے
زندگی سے جنم کا ساتھ مرا
زندگی مجھ سے کیوں گریزاں ہے
آج موسم حسیں ہے جان بہار
آج چلئے کہ باد و باراں ہے
موجزن ایک قلزم خوں ہے
ڈوبی ڈوبی سی نبض دوراں ہے
سانس لینا نصیب ہے مجھ کو
زندگی پہ بھی تیرا احساں ہے
جس کو انسانیت سے نفرت ہے
عہد حاضر یہ تیرا انساں ہے
جس کی تکمیل آج تک نہ ہوئی
میں ہوں اور میرے دل کا ارماں ہے
فیضؔ کو پوچھتے رہو یارو
سنتے ہیں اک عجیب انساں ہے
فیض تبسم تونسوی