MOJ E SUKHAN

آپ کے شہر میں آنے والے

غزل

آپ کے شہر میں آنے والے
یعنی خود جان سے جانے والے

سوچتا رہتا ہوں کیسے ہوں گے
حال دل دل میں چھپانے والے

بھول جانا تری عادت ہی سہی
ہم نہیں تجھ کو بھلانے والے

ہم چٹانوں کی طرح قائم ہیں
کچھ کہیں ہم کو زمانے والے

میری تقدیر کے بھی مالک ہیں
فیضؔ بگڑی کو بنانے والے

فیض تبسم تونسوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم