غزل
آپ کے شہر میں آنے والے
یعنی خود جان سے جانے والے
سوچتا رہتا ہوں کیسے ہوں گے
حال دل دل میں چھپانے والے
بھول جانا تری عادت ہی سہی
ہم نہیں تجھ کو بھلانے والے
ہم چٹانوں کی طرح قائم ہیں
کچھ کہیں ہم کو زمانے والے
میری تقدیر کے بھی مالک ہیں
فیضؔ بگڑی کو بنانے والے
فیض تبسم تونسوی