MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

غزل رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا چاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کا جس نے ہجر کاٹا ہے بس وہ جان سکتا ہے زخم سل نہیں سکتا درد ہے وہ شدت کا آنکھ مر تو جاتی ہے جینے کی تمنا میں اور وہ نہیں مرتا جو ہے خواب […]

رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا Read More »

کبھی عشق سے کبھی پیار سے

غزل کبھی عشق سے کبھی پیار سے کبھی موسموں کی بہار سے شب ہجر روشنی ہو گئی مرے آنسوؤں کی قطار سے نہ بہل سکی نہ نکل سکی ترے دل کے ایک بھی تار سے نہ ہی تیرے دل میں ٹھہر سکی کبھی اضطراب و قرار سے میں نکل کے اب کہاں جاؤں گی تری

کبھی عشق سے کبھی پیار سے Read More »

دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو

غزل دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو چاک ہو جائے تو سیا نہ کرو خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ان میں جا کے صنم جیا نہ کرو جسے تم چھوڑ آئے ہو وہ شہر اسے اب یاد تم کیا نہ کرو راہ میں چھوڑ کر چلا جو گیا نام اس شخص کا

دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو Read More »

کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کو

غزل کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کو میں نے چاہا تھا کبھی ایک زمانہ تم کو یہ جو تم عید پہ بھی آتے نہیں لوٹ کے گھر کوئی چھٹی کا نہیں ہوتا بہانہ تم کو بستر مرگ پہ ماں تھی تو نہ تھے سامنے تم بہت ہی مہنگا پڑا ہے چلے جانا تم

کیا سناؤں دل مضطر کا فسانہ تم کو Read More »

غم جاناں غم دوراں بہت ہیں غم زمانے میں

غزل غم جاناں غم دوراں بہت ہیں غم زمانے میں مگر جو غم کو اپنائے بہت ہیں کم زمانے میں خود ہی اپنا پتا رکھو خود ہی اپنی خبر رکھو سبھی مدھم سبھی باطن سبھی مبہم زمانے میں میں کس کو کیا کہوں معصوم ہیں سارے بظاہر تو بدل جاتا ہے لیکن دفعتاً موسم زمانے

غم جاناں غم دوراں بہت ہیں غم زمانے میں Read More »

چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید

غزل چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید آنا بھی ہے تو نہیں ہم کو بتانا شاید صبر آیا ہے ہمیں اشک فشانی سے ہی مل ہی جائے کوئی اس کو بھی بہانہ شاید اس نے اچھا ہی کیا بن مجھے بتلائے گیا جان لے لیتا مری اس کا یوں جانا شاید ان کا اپنا

چھوڑ امید اسے اب نہیں آنا شاید Read More »

جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ

غزل ہجر لازم ہے تو یہ ہجر نبھائے جاؤ جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ جو بھی اس دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہو کیسے ممکن ہے کتابو سے بھلائے جاؤ شاید یہ طرز کسی روح میں گھر کر جائے عین ممکن ہے کسی دل میں بسائے جاؤ یہ مری رات بھی

جا رہے ہو تو کوئی ربط بنائے جاؤ Read More »

محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے

غزل محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے بھلا کیا ہے برا کیا ہے سزا کیا ہے جزا کیا ہے ذرا تم سامنے آؤ نظر ہم سے تو ٹکراؤ کسے پھر ہوش ہو تم نے کہا کیا ہے سنا کیا ہے محبت جرم ایسا ہے کہ مجرم ہے کھڑا بے سدھ کیا

محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے Read More »

تم کیا جانو پیار محبت عشق نبھانا کیا ہوتا ہے

غزل تم کیا جانو پیار محبت عشق نبھانا کیا ہوتا ہے تم کیا جانو رستہ تکتے عمر بتانا کیا ہوتا ہے مسجد مندر گرجا گھر میں اشک بہانا کیا ہوتا ہے تم کیا جانو رات تہجد ہاتھ اٹھانا کیا ہوتا ہے خود کو مٹی مٹی کر کے آہیں گریہ زاری شور تم کیا جانو روٹھنے

تم کیا جانو پیار محبت عشق نبھانا کیا ہوتا ہے Read More »

روبرو پھر سے اس کی آنکھیں تھیں

غزل روبرو پھر سے اس کی آنکھیں تھیں پھر سے مشکل میں یہ مرا دل تھا اس سے اظہار کر سکی نہ میں جو مری شاعری کا حاصل تھا جو مسیحا تھا میری بستی میں اک وہی شخص میرا قاتل تھا اس کی آنکھوں کا دوش تھا سارا روح چھلنی تھی دل بھی گھائل تھا

روبرو پھر سے اس کی آنکھیں تھیں Read More »