MOJ E SUKHAN

رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا

غزل

رسم ہے یہ دنیا کی کھیل ہے یہ قسمت کا
چاہتے جسے ہم ہیں وہ نہیں ہے چاہت کا

جس نے ہجر کاٹا ہے بس وہ جان سکتا ہے
زخم سل نہیں سکتا درد ہے وہ شدت کا

آنکھ مر تو جاتی ہے جینے کی تمنا میں
اور وہ نہیں مرتا جو ہے خواب حسرت کا

جو لکھا لکیروں میں اس کو پورا ہونا ہے
وقت ٹل نہیں سکتا ہر گھڑی مصیبت کا

صرف قسمیں وعدے ہیں اور وقت پڑنے پر
ساتھ بھی نہیں دیتا اب کوئی محبت کا

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم