MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو

غزل

دل کے زخموں کا کچھ کیا نہ کرو
چاک ہو جائے تو سیا نہ کرو

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے
ان میں جا کے صنم جیا نہ کرو

جسے تم چھوڑ آئے ہو وہ شہر
اسے اب یاد تم کیا نہ کرو

راہ میں چھوڑ کر چلا جو گیا
نام اس شخص کا لیا نہ کرو

بڑے آداب ہیں مشاعرے کے
کبھی وقت سخن پیا نہ کرو

اتنا کم ظرف وہ نہیں ماہمؔ
اسے تم مشورے دیا نا کرو

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم