MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہا

غزل بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہا اس کہرام میں بھی اے دنیا میں خاموش رہا صبح کی چاپ نے مجھ کو صدا دی میں نے بات نہ کی شام کی چپ نے مجھ کو پکارا میں خاموش رہا کتنے گیت بکھیرتے موسم میرے سامنے آئے میں تھا جاتی رت کا سایا میں خاموش […]

بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہا Read More »

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو

غزل تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو جو ملے خواب میں وہ دولت ہو میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنی ہی بے مروت ہو تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو Read More »

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

غزل کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب

کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے Read More »

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی

غزل حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی شوق میں کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی تیرا فراق جان جاں عیش تھا کیا مرے لیے یعنی ترے فراق میں خوب شراب پی گئی تیرے وصال کے لیے اپنے کمال کے لیے حالت دل کہ تھی خراب اور خراب کی گئی اس کی امید

حالت حال کے سبب حالت حال ہی گئی Read More »

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

غزل نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا اخلاص قربانی محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم سنا

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم Read More »

عمر گزرے گی امتحان میں کیا

غزل عمر گزرے گی امتحان میں کیا داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا میری ہر بات بے اثر ہی رہی نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں ہم غریبوں کی آن بان میں کیا خود

عمر گزرے گی امتحان میں کیا Read More »

کلمۂ بے خودی کے مجرم ہیں

غزل کلمۂ بے خودی کے مجرم ہیں آپ سے دوستی کے مجرم ہیں آؤ غم کا طواف کرتے ہیں ہم فقط اک خوشی کے مجرم ہیں ہم چڑھاتے ہیں سولیاں جن کو قوم کی رہبری کے مجرم ہیں وقت منصف ہے خود سزا دے گا ہم اگر شاعری کے مجرم ہیں اے محبت اگر خدا

کلمۂ بے خودی کے مجرم ہیں Read More »

درد سے یار چیخ اٹھے ہیں

غزل درد سے یار چیخ اٹھے ہیں سر بازار چیخ اٹھے ہیں تو کہانی میں کیوں ہوا شامل سارے کردار چیخ اٹھے ہیں جن کے منہ میں زبان تھی ہی نہیں وہ بھی اس بار چیخ اٹھے ہیں خود ہی آ اور آ کے دیکھ ذرا تیرے شہکار چیخ اٹھے ہیں تیری تصویر کیا لگی

درد سے یار چیخ اٹھے ہیں Read More »

ہم آئنے میں جوانی تلاش کرتے رہے

غزل ہم آئنے میں جوانی تلاش کرتے رہے محبتوں کی کہانی تلاش کرتے رہے ہمارے دل پہ عجب اضطراب طاری رہا نظر نظر میں کہانی تلاش کرتے رہے شعور ماضی کے کرب و بلا میں الجھا رہا شراب ہم بھی پرانی تلاش کرتے رہے ہمارے عزم کی بنیاد کتنی گہری تھی وہ اک گھڑی تھی

ہم آئنے میں جوانی تلاش کرتے رہے Read More »

درون ذات کا منظر زمانے پر نہیں کھولا

غزل درون ذات کا منظر زمانے پر نہیں کھولا بسر اک رات کرنی ہے ابھی بستر نہیں کھولا مسافر ہوں میں بھوکا ہوں صدائیں دیں بہت لیکن دریچے کھول کر دیکھے کسی نے گھر نہیں کھولا میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے مولا نڈر ہو کر کہ جب مانگا مرے اعمال کا دفتر نہیں

درون ذات کا منظر زمانے پر نہیں کھولا Read More »