MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہا

غزل

بجلی کڑکی بادل گرجا میں خاموش رہا
اس کہرام میں بھی اے دنیا میں خاموش رہا

صبح کی چاپ نے مجھ کو صدا دی میں نے بات نہ کی
شام کی چپ نے مجھ کو پکارا میں خاموش رہا

کتنے گیت بکھیرتے موسم میرے سامنے آئے
میں تھا جاتی رت کا سایا میں خاموش رہا

گزرے میرے پاس سے ہو کر شور بھرے میلے
سیل حوادث تو نے دیکھا میں خاموش رہا

کتنے پانی سر سے گزرے میری زباں نہ کھلی
ساحل ساحل دریا دریا میں خاموش رہا

جعفرؔ دیکھ کے غم برساتی زندگیوں کے سمے
بیت گئی اس دل پر کیا کیا میں خاموش رہا

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم