MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے

غزل کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے کہاں ہوائیں کھو گئی ہیں سوچنا تو چاہئے یہ اور بات باغ باغ کر گئیں طبیعتیں ذرا قریب سے ہنسی کو دیکھنا تو چاہئے یہ مصلحت بھی کیا کہ دل کی وسعتیں ہوں منجمد رگوں میں زندگی کا خون دوڑنا تو چاہئے میں ان اداسیوں کو […]

کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے Read More »

سورج چھپا اک اک گل منظر بکھر گیا

غزل سورج چھپا اک اک گل منظر بکھر گیا شعلہ سا کوئی دل میں اتر کر بکھر گیا تھا چاندنی کا جسم کہ شیشے کا تھا بدن آئی ہوا تو گر کے زمیں پر بکھر گیا کل ہنس کے ریگ دشت سے کہتی تھی زندگی میں نے چھوا ہی تھا کہ وہ پتھر بکھر گیا

سورج چھپا اک اک گل منظر بکھر گیا Read More »

دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ

غزل دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ شعلہ کہ تہہ آب نکھرتا ہے زیادہ کیا جانیے کیا بات ہے اب دشت کی نسبت دل خامشیٔ شہر سے ڈرتا ہے زیادہ اندر کا وہی روگ اسے بھی ہے مجھے بھی بنتا ہے زیادہ وہ سنورتا ہے زیادہ جو آنکھ کے جلتے ہوئے صحرا سے

دیکھوں تو مرے دل میں اترتا ہے زیادہ Read More »

دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک

غزل دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک رات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تک تو یہ کہتا ہے کہ تو کل رات میرے ساتھ تھا میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے تجھ کو ڈھونڈا دیر تک پاس رکھ کر اجلے اجلے دودھ سے یادوں کے جسم دیر سے بیٹھا ہوں

دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک Read More »

دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیں

غزل دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیں رات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیں رابطہ کچھ تو رہے روح کا پاتال کے ساتھ آج ہم بھی تری آنکھوں میں بھنور ڈھونڈتے ہیں کوئی خوشبو نہ یہاں انجم و مہتاب کی ضو ان گھروں سے بہت آگے ہے جو گھر ڈھونڈتے ہیں

دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیں Read More »

حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے

غزل حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے زندگانی تیرے ہونے کی نشانی تو رہے اس کی خاطر تو گوارا کوئی بن باس بھی ہے سب کے ہونٹوں پہ مری رام کہانی تو رہے ضبط میں یہ بھی ہے گویائی کا اپنا انداز لب ہوں خاموش مگر اشک فشانی تو رہے گر اجالوں

حسن آنکھوں میں رہے دل میں جوانی تو رہے Read More »

دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقت

غزل دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقت آ رہا ہے مری باتوں میں زمانا اس وقت کرب تنہائی کی تاویل تو مشکل ہے بہت کیسے چپ چاپ ہوا آپ کا آنا اس وقت رسم تجدید مراسم بھی ضروری ہے مگر یاد آیا ہے مجھے وقت پرانا اس وقت یہ گھڑی کوئی فراموش نہیں

دل ناداں کوئی محشر نہ اٹھانا اس وقت Read More »

جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں

غزل جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں شہر سو گیا سارا اب کسے جگاؤں میں پائمال سبزے پر دیکھ کر گرے پتے اب زمین سے خود کو کس طرح اٹھاؤں میں ان اکیلی راتوں میں ان اکیلے رستوں پر کس کے ساتھ آؤں میں کس کے ساتھ جاؤں میں ایک ہی سی تنہائی

جان ایسے خوابوں سے کس طرح چھڑاؤں میں Read More »

اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتا

غزل اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتا راز ظاہر بھی یہ مجھ پر نہیں ہونے دیتا خوف رسوائی سے کر دیتا ہے حیراں ایسا میری آنکھوں کو سمندر نہیں ہونے دیتا موم کر دیتا ہے جب لوٹ کے آ جاتا ہے مجھ کو فرقت میں وہ پتھر نہیں ہونے دیتا دیکھتا ہوں تو کبھی

اپنے احساس سے باہر نہیں ہونے دیتا Read More »

پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر

غزل پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر کہاں کہاں سے ملی ہے مجھ کو خبر بہت دیر بعد جا کر میں مدتوں سقف زندگی پر کھڑے کھڑے تم کو دیکھ آیا یہ تم بھی کیا ہو کہ آئے مجھ کو نظر بہت دیر بعد جا کر مری تمنا

پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر Read More »