کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے
غزل کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے کہاں ہوائیں کھو گئی ہیں سوچنا تو چاہئے یہ اور بات باغ باغ کر گئیں طبیعتیں ذرا قریب سے ہنسی کو دیکھنا تو چاہئے یہ مصلحت بھی کیا کہ دل کی وسعتیں ہوں منجمد رگوں میں زندگی کا خون دوڑنا تو چاہئے میں ان اداسیوں کو […]
کہیں فضا میں کوئی ابر تیرنا تو چاہئے Read More »