MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جلووں کے دل فریب نظارے نظر میں ہیں

غزل

جلووں کے دل فریب نظارے نظر میں ہیں
دریائے رنگ و نور کے دھارے نظر میں ہیں

سب کچھ سمجھ کے بھی نہ جنہیں کچھ سمجھ سکیں
مبہم سے ان کے وہ بھی اشارے نظر میں ہیں

اعراض حسن دوست ہے با طرز التفات
طوفاں کے ساتھ ساتھ کنارے نظر میں ہیں

اعمال اپنے کچھ بھی نہیں زیست میں مگر
اس کی ہی رحمتوں کے سہارے نظر میں ہیں

انعامؔ جن کو زیست میں حاصل نہیں سکوں
ایسے بھی کچھ حبیب ہمارے نظر میں ہیں

انعام تھانوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم