MOJ E SUKHAN

وہ غم جو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

غزل

وہ غم جو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
پرکیف اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

انسان کی معراج ترقی کی حکایت
خالق کی عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

سچ پوچھیے ان حسن کے جلوؤں کی حقیقت
آداب محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

کیا کہیے کہ معیار عروج دل آدم
ایمان و فراست کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

یہ دبدبہ و شوکت و تنظیم و سیاست
اک غلبہ و قوت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

اب خدمت اقوام کے پردہ میں بھی اکثر
تمکین سیاست کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

یہ حسن کی رنگینیٔ دل کش کا تأثر
احساس طبیعت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

یہ بے خودی و ہوش کا معیار توازن
ساقی کی کرامت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

یہ جلوہ گہہ گلشن ایجاد کا عالم
اک امر مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

اس دور کے رنگین معانی میں بھی اکثر
الفاظ کی ندرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

انعامؔ غم عشق کا طوفان بلا خیز
احساس کی شدت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے

انعام تھانوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم