MOJ E SUKHAN

ان مکانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

غزل

ان مکانوں سے بہت دور بہت دور کہیں
چل زمانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

خواب سا ایک جہاں ہے کہ جہاں سب کچھ ہے
ان جہانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

میرے امکان نے دیکھی ہے کنارے کی جھلک
بادبانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

قصہ گو اپنے تخیل میں نکل جاتا ہے
داستانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

آؤ جینے کی کوئی راہ نکالیں عمرانؔ
کارخانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

ایک گھر مجھ کو بلاتا ہے میرے پاس آؤ
ان مکانوں سے بہت دور بہت دور کہیں

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم