MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ٹھہر کے دیکھ تو اس خاک سے کیا کیا نکل آیا

غزل

ٹھہر کے دیکھ تو اس خاک سے کیا کیا نکل آیا
مری پر گرد پیشانی سے بھی سجدہ نکل آیا

کہیں پیپل اگے ہیں تیسری منزل کے چھجے پر
کہیں کھڑکی کی چوکھٹ سے کوئی قبضہ نکل آیا

ہمارا راستہ تو علم کا تھا جستجو کا تھا
نہ جانے کون سے رستے سے یہ رستہ نکل آیا

تو کیا ہر علم مشکل کی بدولت سیکھتے ہیں ہم
جہاں دشواریاں پہنچیں وہیں رستہ نکل آیا

خدا جانے یہ علم ہیئت اشیا کہاں ٹھہرے
جسے عنصر سا سمجھا تھا مرکب سا نکل آیا

یہ منزل قید خانہ لگ رہی تھی کچھ دنوں پہلے
اور اب اس قید خانے کا بھی دروازہ نکل آیا

بہت نزدیک آنے کا بہانہ مل گیا ہم کو
تمہارا اور میرا دور کا رشتہ نکل آیا

کسی کے آئینہ خانے میں اپنا عکس بھی گم ہے
کسی کے آئینے میں آئینہ خانہ نکل آیا

یہاں تک میں بڑی مشکل بڑی کوشش سے پہنچا تھا
مگر صندوق کھولا تو نیا نقشہ نکل آیا

تمہارے شہر کی سڑکیں بھی بارش دھو گئی ہوگی
ہمارے گاؤں کی گلیوں میں تو سبزہ نکل آیا

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم