MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل تو ہر چیز پہ بچہ سا مچل جاتا ہے

غزل

دل تو ہر چیز پہ بچہ سا مچل جاتا ہے
جیب جب ڈانٹنے لگتی ہے سنبھل جاتا ہے

جب بھی میں سوچتا ہوں رات نہیں جانے کی
دور اس گھر میں کوئی بلب سا جل جاتا ہے

رات کے وقت ابھرتا ہے جنوں کا سورج
دن نکلتے ہی کسی چاند میں ڈھل جاتا ہے

یہ جو سریا ہے تفاخر کا تری گردن میں
اژدہا بن کے یہ قوموں کو نگل جاتا ہے

ایک ہی بات بنا دیتی ہے ہر بگڑی بات
ایک ہی شخص زمانے کو بدل جاتا ہے

تو تو نرمیؔ ہے مری جان اسی چکر میں
میر صاحب کا پلیتھن بھی نکل جاتا ہے

عمران شمشاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم