غزل
قدم قدم پہ صبا, تتلیاں, دھنک, جگنو
تمہاری یاد سے ہر سُو بکھرنے لگتے ہیں
کلی, بہار, شبِستاں, گلُاب اور خُوشبو
تمہاری سوچ سے ہر سُو نکھرنے لگتے ہیں
طلِسم, خواب, تخیّل, سِحر, فُسوں , جادو
مرے خیال میں یکدم اُبھرنے لگتے ہیں
زمین، آسماں، کُہسار، بحر، دشت و دمن
تصورات میں منظر ٹھہرنے لگتے ہیں
گھٹائیں,دھوپ, ہوائیں, گرج, چمک, بادل
تمہارے ذِکر سے موسم سنورنے لگتے ہیں
ستارے, چاند, کرن, نور, روشنی, جِھلمِل
تمہیں پکاروں تو ہر سُو اترنے لگتے ہیں
کنارہ, لہریں, گُہر, ریت, سیپیاں, ساگر
تخیلات میں کھو کر ابھرنے لگتے ہیں
ہوا، بہار, خِزاں، آندھی ، بارشیں، اولے
تمام شہر کے منظر سنورنے لگتے ہیں
پہاڑ, وادیاں, گاؤں, نگر, چمن, قریہ
سب ایک پل میں نظر سے گزرنے لگتے ہیں
کرِشمہ, مُعجزہ, جلوہ, حسین شیش محل
نظر میں کتنے نظارے اترنے لگتے ہیں
شبِ برات, شبِ ماہ, عید اور تہوار
تمہارے ساتھ کے پل یوں گزرنے لگتے ہیں
عنبرین_خان