غزل
اب ترے ملنے کا امکان کہاں باقی ہے
جاں پہ بن آئی ہے پر جان کہاں باقی ہے
وہ تو اک شخص تھا پہچان کا باعث ورنہ
اب بھرے شہر میں پہچان کہاں باقی ہے
درد کو ‘درد’ ہی اب کہنا پڑے گا شاید
درد کا کوئی بھی عنوان کہاں باقی ہے
چار سو ظلم و ستم, جبر و قہر برپا ہے
آج اعمال کا میزان کہاں باقی ہے
اول اول کی محبت میں فراوانی تھی
اب طبیعت میں وہ ہیجان کہاں باقی ہے
سانس لیتا ہوا آوازوں کا اک جنگل ہے
اور اِس شور میں انسان, کہاں باقی ہے
جان کھاتا ہوا نقصان سے پہلے تک تھا
اب وہ اندیشۂِ نقصان کہاں باقی ہے
عنبرین_خان