MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی

غزل

اب حرف تمنا کو سماعت نہ ملے گی
بیچوگے اگر خواب تو قیمت نہ ملے گی

تشہیر کے بازار میں اے تازہ خریدار
زیبائشیں مل جائیں گی قامت نہ ملے گی

لمحوں کے تعاقب میں گزر جائیں گی صدیاں
یوں وقت تو مل جائے گا مہلت نہ ملے گی

سوچا ہی نہ تھا یوں بھی اسے یاد رکھیں گے
جب اس کو بھلانے کی بھی فرصت نہ ملے گی

تا عمر وہی کار زیاں عشق رہا یاد
حالانکہ یہ معلوم تھا اجرت نہ ملے گی

تعبیر نظر آنے لگی خواب کی صورت
اب خواب ہی دیکھو گے بشارت نہ ملے گی

آئینہ صفت وقت ترا حسن ہیں ہم لوگ
کل آئنے ترسیں گے تو صورت نہ ملے گی

پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم