MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے

غزل

کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے
محبت میں محض تقلید کی تردید کرتا ہے

یکایک نام لے کر نیم خوابیدہ سے لہجے میں
مرے ہر جاگتے لمحے کو وہ خوابید کرتا ہے

وہ حاوی اس قدر ہونے لگا کہ اب خیالوں کی
کبھی تحریف کرتا ہے, کبھی تجرید کرتا ہے

پرکھتا ہے عروض و بحر سے اوزان چاہت کے
مجھے باوزن الفت کی سدا تاکید کرتا ہے

وہ خود بھی منفرد لہجے میں اکثر شعر کہتا ہے
روایاتِ غزل کی روز یوں تجدید کرتا ہے

میں جب نومید ہو جاتی ہوں جیون کے اندھیروں سے
ستارے بھر کے آنکھوں میں, وہ پُراُمید کرتا ہے

عنبرین_خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم