MOJ E SUKHAN

اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں

غزل

اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں
یہ حوصلہ اب کہاں سے لاؤں

ٹوٹے ہوئے آئنے میں خود کو
میں دیکھ جو لوں تو ڈر نہ جاؤں

زخموں سے بھرے چمن میں رہ کر
پھولوں سے مہکتے گیت گاؤں

اے کاش وفا کی روشنی سے
امید کا اک دیا جلاؤں

تجدید وفا کے آسرے پر
زخموں کی چبھن بھی بھول جاؤں

اپنا ہی لہو روش روش پر
اے میرے چمن کسے دکھاؤں

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم