MOJ E SUKHAN

تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست

غزل

تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست
کتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوست

جانے کس کام میں مصروف رہا برسوں تک
یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مرے دوست

پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے
آئینہ بن کے مرا دل نہ دکھانا مرے دوست

اس ملاقات میں جو غیر ضروری ہو جائے
یاد رہتا ہے کسے ہاتھ ملانا مرے دوست

دیکھنا مجھ کو مگر میری پذیرائی کو
اپنی آنکھوں میں ستارے نہ سجانا مرے دوست

اب وہ تتلی ہے نہ وہ عمر تعاقب والی
میں نہ کہتا تھا بہت دور نہ جانا مرے دوست

ہجر تقدیر میں لکھا تھا کہ مجبوری تھی
چھوڑ اس بات سے کیا ملنا ملانا مرے دوست

تو نے احسان کیا اپنا بنا کر مجھ کو
ورنہ میں کیا تھا حقیقت نہ فسانہ مرے دوست

اس کہانی میں کسے کون کہاں چھوڑ گیا
یاد آ جائے تو مجھ کو بھی بتانا مرے دوست

چھوڑ آیا ہوں ہواؤں کی نگہبانی میں
وہ سمندر وہ جزیرہ وہ خزانہ مرے دوست

ایسے رستوں پہ جو آپس میں کہیں ملتے ہوں
کیوں نہ اس موڑ سے ہو جائیں روانہ مرے دوست

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم